Saturday, 15 May 2021

برسوں کے جیسے لمحوں میں یہ رات گزرتی جائے گی

 برسوں کے جیسے لمحوں میں یہ رات گزرتی جائے گی

تم سامنے آئے گر دل کی دھڑکن بھی ٹھہر ہی جائے گی

پردے میں رہوں آنکھیں میری بیتاب تو ہیں پر تاب نہیں

بے تابئ دل لمحاتی ہے حالت یہ سنبھالی جائے گی

آئینۂ دل شفاف تو ہو ہم کو بھی سنورنا لازم ہے

ہم کو بھی پتہ ہے ملنے پر چہرے کی بحالی جائے گی

کچھ خود میں کشش پیدا کر لو کہ محفل تم سے آنکھ بھرے

یہ چال بڑے عیار کی ہے یہ چال نہ خالی جائے گی

اے کاشف سوز‌ ہستی سن ہے تجھ میں نہاں اسرار کی بو

گر تیرا گزر گلشن سے ہوا ہر بات نکالی جائے گی


عفیف سراج

No comments:

Post a Comment