Saturday, 15 May 2021

تیرے لہجے کا وہ اثر ہوتے دیکھا

 تیرے لہجے کا وہ اثر ہوتے دیکھا

ہم نے لفظوں کو امر ہوتے دیکھا

حسنِ یار کی تعریف میں، اکثر

گُونگوں کو سخنوَر ہوتے دیکھا

ننگے پاؤں رکھے خاک پہ جب

خاک کو سنگِ مرمر ہوتے دیکھا

لمسِ لبِ شیریں کی قدرت سے

نِیم کو بھی قندِ ثمر ہوتے دیکھا

پہلی نظر اور جنبشِ سر مژگاں

دلوں میں وا، در ہوتے دیکھا

بہکنے لگیں، پارسا بھی یہاں

صبر کو بے صبر ہوتے دیکھا

اس کا ہمسفر ہونے کی آرزو لیے

مقیم مسافر در بدر ہوتے دیکھا

لبوں کی نزاکت چُرائیں گُلاب

آفتاب کو سایہ ابر ہوتے دیکھا

شب مانگے سیاہئ زُلفِ جاناں

پلکیں اٹھیں، سحر ہوتے دیکھا

سُریلی آواز کی نغمگی سُن کر

سازوں کو بے سُر ہوتے دیکھا

سُنہری رنگت پہ قیامت سیاہ تل

ٹکڑے بھی دل و جگر ہوتے دیکھا

قاتل آنکھوں کی، مست ادائیں

مقتول کو بھی منکر ہوتے دیکھا

تیری چاہت میں حسد مجھ سے

امرت احباب کو زہر ہوتے دیکھا

وہ اک شب کا ملن تھا کرشمہ

کھنڈرات کو شہر ہوتے دیکھا

بے وفا لُوٹ کے جی گئے زندگی

وفاداروں پہ، جبر ہوتے دیکھا

پل میں، بدلتی ہے قسمت یہاں

وصالِ یار کو ہجر ہوتے دیکھا


شہزادہ کبیر

No comments:

Post a Comment