Friday, 8 April 2022

میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی

 میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی

رقص میں ہے دل دیوانہ کہ محفل ہے وہی

یہ الگ بات نہ وہ تمکنت آرا ہے نہ میں

ہے چمن بھی وہی اور شور عنادل ہے وہی

وہی لیلائے سخن اب بھی سراپائے طلسم

میری جاں اب بھی وہی ہے کہ مِرا دل ہے وہی

دشت حیرت میں وہی میرا جنوں محو خرام

آ کے دیکھو کہ یہاں گرمی محفل ہے وہی

اس میں جو ڈوب گیا پار اتر جائے گا

موج در موج وہ دریا ہے تو ساحل ہے وہی

آج بھی اس کے مِرے بیچ ہے دنیا حائل

آج بھی اس کے مِرے بیچ کی مشکل ہے وہی


عین تابش

No comments:

Post a Comment