Monday, 10 January 2022

زمین ایک مدت سے رو رہی ہے

 زمین ایک مدت سے

ہفت آسماں کی طرف سر اٹھائے ہوئے

رو رہی ہے

زمین اپنے آنسو

بہت اپنی ہی کوکھ میں بو رہی ہے

زمیں دل کشادہ ہے کتنی

فلک کے اتارے ہوئے بوجھ بھی ڈھو رہی ہے

فضا پر بہت دھند چھائی ہوئی ہے

جواں گل بدن شاہزادے

زمیں کے دلارے

اجڑتی ہوئی بزم کے چاند تارے

کٹی گردنوں گولیوں سے چھدے جسم کی

رت سجائے لہو میں نہائے

زمیں کی طرف آ رہے ہیں

زمیں ایک مدت سے

اس کار و بار ستم میں گھری ہے

زمین رو رہی ہے

مگر اس کے آنسو کی تحریر

روشن ہے اتنی

کہ آئندہ موسم اسی زندہ تحریر سے

جگمگاتے رہیں گے

اگر اس کے شہزادے

یوں ہی لہو میں نہاتے رہیں گے

تو اک روز تاریخ

ان کے لیے حشر برپا کرے گی


عین تابش

No comments:

Post a Comment