ہم بھی تھے گوشہ گیر کہ گُمنام تھے بہت
اس طرزِ زیست میں مگر آرام تھے بہت
دنیا ہے کار خانۂ وہم و گماں تمام
سچے وہی فسانے تھے جو عام تھے بہت
خود اپنے اضطرارِ طبیعت سے تنگ تھے
ہم جو شکارِ گردشِ ایام تھے بہت
لپٹی رہی تو سربسر اسرار تھی وہ زُلف
کھُلتی کبھی تو اس کے بھی پیغام تھے بہت
اک عمر تجربات میں گزری تو یہ کھُلا
یاں آزمودہ کار ہی ناکام تھے بہت
آصف جمال
No comments:
Post a Comment