Tuesday, 6 April 2021

دل حزیں کو الم میں قرار بھی تو نہیں

دل حزیں کو الم میں قرار بھی تو نہیں

مزاج یار پہ کچھ اختیار بھی تو نہیں

ابھی سے دشت نوردی کی فکر کیوں دل کو

چمن میں آنے کو فصل بہار بھی تو نہیں

میں کیسے مان لوں اپنے کو جاں نثاروں میں

مِری وفا کا تمہیں اعتبار بھی تو نہیں

ہمارا شکر تِری نعمتوں کے آگے کیا

تِرے کرم کا ہے کوئی شمار بھی تو نہیں

رہا یہ غنچۂ دل ناشگفتہ مثل خزاں

گرہ کشائے طبیعت بہار بھی تو نہیں

تمہارے وعدوں پہ اب کس طرح یقین آئے

وفا ہوا ہے کبھی ایک بار بھی تو نہیں

بسر کرے کوئی وحشی بھی دشت میں کیوں کر

کوئی درخت یہاں سایہ دار بھی تو نہیں

اب ان کی شان تغافل کا کیا گلہ کیجے

جب اپنے دل پہ مجھے اختیار بھی تو نہیں

ہو ثاقب آپ کو اہل وطن سے شکوہ کیا

کہ خاکسار غریب الدیار بھی تو نہیں


ثاقب عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment