Tuesday, 6 April 2021

بچہ بنا ہوا ہے بغاوت کے بعد بھی

 بچہ بنا ہوا ہے بغاوت کے بعد بھی

نادم نہیں ہے کوئی شرارت کے بعد بھی

تانا برستی آگ میں کاغذ کا سائباں

جل بُجھ گئے ہیں لوگ حفاظت کے بعد بھی

منزل پہ جا کے پاؤں کے چھالے اُبل پڑے

ہم کو سکوں ملا نہ مسافت کے بعد بھی

سورج کی روشنی بھی نہ دل میں اُتر سکی

ٹھنڈک رہی بدن میں تمازت کے بعد بھی

ہوتے ہی شام یورشِ خلوت نے آ لیا

مصروف ہو گیا میں فراغت کے بعد بھی

جو کچھ کہا گیا اسے مانے نہیں ہیں ہم

باغی رہا ہے ذہن حراست کے بعد بھی

اب پھر اسی کے نام پہ بے کل ہوا ہے جان

دل میں وہی تڑپ ہے عداوت کے بعد بھی


جان کشمیری

No comments:

Post a Comment