محبت کرنے والوں کو کنارے درد دیتے ہیں
خسارے ہو گئے اتنے سہارے درد دیتے ہیں
نہ کرنا اب کسی بھی آنکھ کو رسوا کبھی یارا
محبت ہو اگر لحظہ شمارے درد دیتے ہیں
قناعت زندگی کو آ گئی ہو تو یوں ہوتا ہے
ندی کلیاں پہاڑی سب نظارے درد دیتے ہیں
فقط یہ اک نشانی ہے محبت کے سفیروں کی
کسی کی آنکھ کے ان کو اشارے درد دیتے ہیں
مکمل زندگی وحشت میں گزری دم بہ دم جن کی
انہیں وہ سب گزر کردہ گزارے درد دیتے ہیں
لگا مت دل زمیں زادوں سے یہ ہیں بے وفا ابتر
ابھرتے سب چمکتے یہ ستارے درد دیتے ہیں
پڑھا شیریں کہانی کو،۔ سنا فرہاد کا قصہ
سبھی میں ہی لکھا ہے یہ پکارے درد دیتے ہیں
معاذ فرہاد
No comments:
Post a Comment