Thursday, 17 February 2022

محبت کرنے والوں کو کنارے درد دیتے ہیں

 محبت کرنے والوں کو کنارے درد دیتے ہیں

خسارے ہو گئے اتنے سہارے درد دیتے ہیں

نہ کرنا اب کسی بھی آنکھ کو رسوا کبھی یارا

محبت ہو اگر لحظہ شمارے درد دیتے ہیں

قناعت زندگی کو آ گئی ہو تو یوں ہوتا ہے

ندی کلیاں پہاڑی سب نظارے درد دیتے ہیں

فقط یہ اک نشانی ہے محبت کے سفیروں کی

کسی کی آنکھ کے ان کو اشارے درد دیتے ہیں

مکمل زندگی وحشت میں گزری دم بہ دم جن کی

انہیں وہ سب گزر کردہ گزارے درد دیتے ہیں

لگا مت دل زمیں زادوں سے یہ ہیں بے وفا ابتر

ابھرتے سب چمکتے یہ ستارے درد دیتے ہیں

پڑھا شیریں کہانی کو،۔ سنا فرہاد کا قصہ

سبھی میں ہی لکھا ہے یہ پکارے درد دیتے ہیں


معاذ فرہاد

No comments:

Post a Comment