Tuesday, 5 January 2021

شہر بدن میں پھیلتے خدشات کے عوض

 شہرِ بدن میں پھیلتے خدشات کے عوض

بیچا نہیں ہے بھوک کو خیرات کے عوض

جھوٹی ادا کا ہر کوئی ہوتا نہیں اسیر

دل بِک سکا نہ نقد اشارات کے عوض

بادل کی دوستی بڑی مہنگی پڑی مجھے

گھر کو بہا کے لے گیا برسات کے عوض

آتا نہیں ہے اور کچھ اس کے سوا مجھے

بیچے ہیں شعر تنگئ حالات کے عوض

شب بانٹنے سے قبل ذرا سوچ لے یہ بات

ملتی نہیں ہے روشنی ظلمات کے عوض

جب تک مِری وفاؤں کا ٹوٹا نہ تھا بھرم

کافی تھا ایک شخص ہی بہتات کے عوض

سر پر ہجوم سنگ زن اس پر تِری جفا

صدمات ہی ملے مجھے خدمات کے عوض

کس نے کہا کہ رخت و زر وجہِ سکون ہے

راحت ملی نہیں کبھی آلات کے عوض

تابش عدم سے آ گئی رخصت کی جب صدا

مہلت ملی نہ پھر مجھے صدقات کے عوض


شہزاد تابش

No comments:

Post a Comment