سبھی قاتل، یہاں پر بستیاں مقتول سے خالی
سرشتِ آدمیت کب ہوئی ہے بھول سے خالی
وہیں سے اہلِ دانش عقل کے گوہر اٹھاتے ہیں
جہاں پہ ہو مفصل گفتگو پر طول سے خالی
جو چلنا ہے منازل کی طرف تو گرد ہے لازم
وہ رستہ ہی نہیں ہوتا رہے جو دھول سے خالی
سیاست باغ ہے ایسا جہاں بادِ بہاری میں
ہر اک نخلِ تمنّا ہے ثمر سے پھول سے خالی
انہیں بھی شکوۂ ناکامئ منزل رہا صاحب
کہ جن کی کوششیں تھیں ہرقدم معمول سےخالی
ہے درویشی ردا میں بس حصولِ سیم و زر مقصد
دکھاوے کا مجدد کب ہوا مجہول سے خالی
سنو تابش بدن کی یہ عمارت ایک صحرا ہے
امیدوں کے چمن کی شاخ ہو گر پھول سے خالی
شہزاد تابش
No comments:
Post a Comment