کوئی خبر کہ سلسلۂ دل کا کیا بنا
ہم آ گئے جب اٹھ کے، تو محفل کا کیا بنا
پھر میرے بعد کس نے اٹھایا، یہ بارِ عشق
پھر میرے بعد، طوق و سلا سل کا کیا بنا
کیا آنے والوں کے لیے، آسان ہو گئی؟
پھر میرے بعد، عشق کی مشکل کا کیا بنا
پھر کیا کسی نے، دفن کیا، میری لاش کو
وارث مِرے کدھر گئے، قاتل کا کیا بنا
ہم کو تو موت آ گئی تھی درمیان میں
پھر راہ کس طرف گئی، منزل کا کیا بنا
پھر میرے بعد کون بسا، کون اُجڑ گیا
پھر وہ بھنور کدھر گیا، ساحل کا کیا بنا
اہلِ خِرد تو صحبتِ ہشیار میں ہیں مست
میرے جنوں کو فکر، کہ غافل کا کیا بنا
میر احمد نوید
No comments:
Post a Comment