Wednesday, 2 February 2022

شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا

 شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا 

خاموشی سے اپنا رونا رو لوں گا 

ساری عمر اسی خواہش میں گزری ہے 

دستک ہو گی اور دروازہ کھولوں گا 

تنہائی میں خود سے باتیں کرنی ہیں 

میرے منہ میں جو آئے گا بولوں گا

رات بہت ہے تم چاہو تو سو جاؤ 

میرا کیا ہے میں دن میں بھی سو لوں گا 

تم کو دل کی بات بتانی ہے لیکن 

آنکھیں بند کرو تو مٹھی کھولوں گا


تہذیب حافی

No comments:

Post a Comment