یہ جو وحشت سی ہے آنگن سے نکالوں کیسے
دل کی گرتی ہوئی دیوار سنبھالوں کیسے
میرے ہمراہ نہ جگنو، نہ ستارہ، نہ چراغ
اپنی قسمت کے اندھیروں کو اُجالوں کیسے
یہ زمیں، پاؤں کی زنجیر بنی رہتی ہے
آسماں! خود کو تِری سمت اُچھالوں کیسے
حافظہ چھین لیا رزق کی دُشواری نے
میں کوئی پَل تِری یادوں کا بچا لوں کیسے
سی دئیے ہونٹ زمانے کے رواجوں نے مِرے
میں کوئی گیت تِرے نام کا گا لوں کیسے
رنج و آلام ہی جب صبح! ہیں قسمت میں مِری
رنج و آلام سے دامن کو بچا لوں کیسے
عارفہ صبح خان
No comments:
Post a Comment