من کا سورج کب چمکے گا کتنی دور سویرا ہے
چنتا بن میں گھور اندھیرا پنچھی بہت اکیلا ہے
بادل کے پردے میں چھپ کر جس نے امرت چھڑکا ہے
ساون کی مہندی سے لکھ کر روپ سندیسہ بھیجا ہے
بند کواڑے کھل جاتے ہیں ایسا گیت بھی آتا ہے
میلے کپڑوں میں کیا ملنا سوچ کے من شرماتا ہے
اپنی اور سے دور بھی جاکر اپنی اور ہی پہنچے ہیں
جان و تن کے بیچ ہے کوئی کھوج میں جس کی پھرتے ہیں
ایک اتھاہ ساگر ہے تن میں جو امبر سے اترا ہے
من کا گاگر جتنا بھر لے اتنا جل تو میٹھا ہے
پنگھٹ پنگھٹ ایک ندی سے کتنے تن دھل جاتے ہیں
ایک منش پہ آٹھ کواڑے پل چھن میں کھل جاتے ہیں
کتنا کٹھن ہے اپنا ملنا میں نے جب بھی سوچا ہے
باڑھ آتی ہے وہ خوشبو کی ساگر بھر جاتا ہے
چنتا بن میں گھور اندھیرا پنچھی بہت اکیلا ہے
من کا سورج کب چمکے گا کتنی دور سویرا ہے
نگار صہبائی
No comments:
Post a Comment