Wednesday, 2 February 2022

من کا سورج کب چمکے گا کتنی دور سویرا ہے

 من کا سورج کب چمکے گا کتنی دور سویرا ہے

چنتا بن میں گھور اندھیرا پنچھی بہت اکیلا ہے

بادل کے پردے میں چھپ کر جس نے امرت چھڑکا ہے

ساون کی مہندی سے لکھ کر روپ سندیسہ بھیجا ہے

بند کواڑے کھل جاتے ہیں ایسا گیت بھی آتا ہے

میلے کپڑوں میں کیا ملنا سوچ کے من شرماتا ہے

اپنی اور سے دور بھی جاکر اپنی اور ہی پہنچے ہیں

جان و تن کے بیچ ہے کوئی کھوج میں جس کی پھرتے ہیں

ایک اتھاہ ساگر ہے تن میں جو امبر سے اترا ہے

من کا گاگر جتنا بھر لے اتنا جل تو میٹھا ہے

پنگھٹ پنگھٹ ایک ندی سے کتنے تن دھل جاتے ہیں

ایک منش پہ آٹھ کواڑے پل چھن میں کھل جاتے ہیں

کتنا کٹھن ہے اپنا ملنا میں نے جب بھی سوچا ہے

باڑھ آتی ہے وہ خوشبو کی ساگر بھر جاتا ہے

چنتا بن میں گھور اندھیرا پنچھی بہت اکیلا ہے

من کا سورج کب چمکے گا کتنی دور سویرا ہے


نگار صہبائی

No comments:

Post a Comment