Wednesday, 10 November 2021

منزل کو نہ پانے کا افسوس رہا

 منزل کو نا پانے کا افسوس رہا

رستے کے کھو جانے کا افسوس رہا

گلیوں گلیوں گھومے تھے جس کی خاطر

اس گھر کے مل جانے کا افسوس رہا

وہ فصلیں جو کٹ کر بھوکوں میں نہ بٹیں

ان کے دانے دانے کا افسوس رہا

دل بھی دکھا اور کوئی بات بدل نہ سکی

قصے کے دہرانے کا افسوس رہا

خارِ الم جب راہِ وفا سے کم نہ ہوئے

درد سمیٹ کے لانے کا افسوس رہا

آس بھری نظروں سے خالی رستے کی

شہلا آنکھ چُرانے کا افسوس رہا


شہلا نقوی

No comments:

Post a Comment