وہ دن بھی آئے گا جب عہدِ فرقت سے ڈر جاؤ گی
اور آخر میرے نام کو لے کر تم خود کو بُلواؤ گی
میں عشق کا دعویدار نہیں، میں حُسن کا لالہ زار نہیں
تم تنہا ہی مجھ تک آئی ہو، تم تنہا ہی واپس جاؤ گی
وہ ہی غمزے وہ ہی شوخی، کیا فرق رہا کچھ فرق نہیں
میں جون نہ بن پایا تو کیا، تم فارحہ بن ہی جاؤ گی
پھر عشق کوئی کر بیٹھے گا، پھر کوئی تڑپا اٹھے گا
ہر چہرے میں میرا چہرہ ہے، تم کس کس سے شرماؤ گی
وہ بے تابی بھی ختم ہوئی، وہ لاچاری بھی بھسم ہوئی
اب میری خاطر آنگن تک تم ننگے پیر نہ آؤ گی
میں جان و دل کو وار کے اپنے تم کو درخشاں رکھتا ہوں
پاؤ گی میرے بِن خود کو، تو زرد ہی ہر دم پاؤ گی
پھر اک دن ہم دونوں صورت میں گرد کی ڈھلتے جائیں گے
میں تم پہ خاک اڑاؤں گا، تم مجھ پہ خاک اڑاؤ گی
وہ جون کہ اک ہرجائی تھا، یہ حمزہ کہ اک سودائی ہے
تم اُس سے بھی خوں تُھکواتی تھی، تم اِس سے بھی خوں تُھکواؤ گی
حمزہ عمران
No comments:
Post a Comment