تُو اپنے شہرِ طرب سے نہ پوچھ حال مِرا
مجھے عزیز ہے یہ کوچۂ ملال مرا
ابھی تو ہونا ہے اک رقص بے مثال مرا
دِیے کی لو سے ابھی دیکھنا وصال مرا
وہ درد ہوں کوئی چارہ نہیں ہے جس کا کہیں
وہ زخم ہوں کہ ہے دشوار اندمال مرا
جواز رکھتا ہوں میں اپنے زندہ ہونے کا
کہ ایک خواب سے ہے سلسلہ بحال مرا
ہوا کی دوستی اچھی، نہ دشمنی اچھی
چراغ پہلے نہ تھا اب ہے ہم خیال مرا
میں عکس بن کے اسی سے ابھرنا چاہتا ہوں
سو میرے آئینہ گر آئینہ⌗ اجال مرا
کبھی میں شعلہ تھا، اب صرف راکھ ہوں اسلم
ہلاک کر کے رہا مجھ کو اشتعال مرا
اسلم محمود
No comments:
Post a Comment