کسی نظر کے سوالی بنے ہوئے ہیں ہم
سخن کے باغ میں مالی بنے ہوئے ہیں ہم
کئی اسیر گلے سے لگا کے روتے ہیں
کسی مزار کی جالی بنے ہوئے ہیں ہم
کسی کے کام تو آئیں، کوئی جلائے ہمیں
سو خشک پیڑ کی ڈالی بنے ہوئے ہیں ہم
کبھی تو ہونٹ دھرے گی ہمارے ماتھے پر
سو اس کے گھر میں پیالی بنے ہوئے ہیں ہم
ہمارا جینا اذیت نہیں ہے،۔ طعنہ ہے
خود اپنے واسطے گالی بنے ہوئے ہیں ہم
کھٹک رہے ہیں کسی آنکھ میں حسن ہم لوگ
کسی کے کان کی بالی بنے ہوئے ہیں ہم
حسیب الحسن
No comments:
Post a Comment