Sunday, 14 March 2021

کسی نظر کے سوالی بنے ہوئے ہیں ہم

 کسی نظر کے سوالی بنے ہوئے ہیں ہم

سخن کے باغ میں مالی بنے ہوئے ہیں ہم

کئی اسیر گلے سے لگا کے روتے ہیں

کسی مزار کی جالی بنے ہوئے ہیں ہم

کسی کے کام تو آئیں، کوئی جلائے ہمیں

سو خشک پیڑ کی ڈالی بنے ہوئے ہیں ہم

کبھی تو ہونٹ دھرے گی ہمارے ماتھے پر

سو اس کے گھر میں پیالی بنے ہوئے ہیں ہم

ہمارا جینا اذیت نہیں ہے،۔ طعنہ ہے

خود اپنے واسطے گالی بنے ہوئے ہیں ہم

کھٹک رہے ہیں کسی آنکھ میں حسن ہم لوگ

کسی کے کان کی بالی بنے ہوئے ہیں ہم


حسیب الحسن

No comments:

Post a Comment