Sunday, 14 March 2021

سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے

 سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے

کہیں آباد ہونے پر بھی ہجرت یاد رہتی ہے

کسی صحرا کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے کبھی دریا

کبھی پیاسے کو دریا کی سخاوت یاد رہتی ہے

یہ سچ ہے پیار پہلا ہی بسا رہتا ہے سانسوں میں

یہ سچ ہے، عمر بھر پہلی محبت یاد رہتی ہے

نظر میں زندہ ہو جائے تو منظر مر نہیں سکتا

دلوں میں جس طرح کی ہو حکومت یاد رہتی ہے

کہاں تاثیر رکھتی ہے کسی کی مطلبی بخشش

کسی کی بے غرض لیکن عنایت یاد رہتی ہے​


نثار ترابی

No comments:

Post a Comment