عجیب قیدی ہوں سب پرندوں سے مختلف ہوں
تمام مُردوں، تمام زندوں سے مختلف ہوں
عبث ہی ڈرتے ہیں مجھ سے تیرے جہان والے
میں ایک شاعر ہوں اور درندوں سے مختلف ہوں
میں اس زمیں سے جُڑا ہوا ہوں زماں کی حد تک
فلک گزیدہ، جہاں کُنندوں سے مختلف ہوں
تمہاری آنکھوں سے پی رہا ہوں کہ جی رہا ہوں
ہوں میکدے میں مگر میں رِندوں سے مختلف ہوں
میں سیف اپنے ہی ڈھب کا اک آدمی ہوں پیارے
کہ سب دہندوں سے نادہندوں سے مختلف ہوں
سیف ریاض
No comments:
Post a Comment