اگرچہ زخم تو گہرا لگا ہے
مگر اس بار چلنا آ گیا ہے
گلہ مجھ کو نہیں ہے تم سے کوئی
ابھی تم سے فقط اتنا گلہ ہے
میں کیسے زندگی سے روٹھ جاؤں
تمہارے بعد اکثر سوچتا ہوں
کہ دل کا آنکھ سے کیا واسطہ ہے
جہاں مشکل تھا پل بھر سانس لینا
وہاں برسوں ہمیں جینا پڑا ہے
میں اپنے پاس آنا چاہتا ہوں
کسی نے راستہ روکا ہوا ہے
میں گھر جھوٹی خبر ہی لے کے جاؤں
مری ماں کب سے مصروفِ دعا ہے
کہیں خود سے بھی نفرت ہو نہ جائے
کوئی اتنا پسند آنے لگا ہے
حسن عباسی
No comments:
Post a Comment