پالا ہوا بہشتِ بریں کی ہواؤں کا
شیدا ہوا زمیں پہ وہ تیری اداؤں کا
دامن کو تیرے تھام کے آزاد ہو گیا
قیدی توہمات کا، پتلا خطاؤں کا
اب ذات و کائنات کی حد کوئی شے نہ تھی
تُو آیا بن کے آیہِ رحمت، خدا گواہ
ہنگامہ زا تھا، ورنہ جہاں ناخداؤں کا
تیری نگاہِ لطف نے تسکینِ روح دی
میں لاکھ زخم خوردہ تھا درد آشناؤں کا
ہر دور نے لیا ہے تِری رہ میں امتحاں
میری وفاؤں کا کبھی مجھ پر جفاؤں کا
اقرار ہے مجھے کہ ہمیشہ خدا کے بعد
رخ تیری سمت ہی رہا مِری دعاؤں کا
مایوس تیرے در سے نہ زنہار میں پھرا
رکھا ہے تُو نے پاس میری التجاؤں کا
قیوم نظر
No comments:
Post a Comment