ان آنکھوں کی اجازت مار دے گی
مجھے اس بار ہجرت مار دے گی
ہنسی میں دکھ چھپا لیتا ہوں اپنے
کسی دن یہ سہولت مار دے گی
کبھی سوچا نہیں تھا تیرے ہوتے
کسی کو اپنا دشمن ہی بنا لوں
وگرنہ یہ فراغت مار دے گی
محبت کرنے سے پہلے پتہ تھا
قبیلے کی روایت مار دے گی
حسن یہ وقت آنے پر کھلے گا
کسے کس کی ضرورت مار دے گی
حسن عباسی
No comments:
Post a Comment