Saturday, 22 August 2020

ان آنکھوں کی اجازت مار دے گی

ان آنکھوں کی اجازت مار دے گی
مجھے اس بار ہجرت مار دے گی
ہنسی میں دکھ چھپا لیتا ہوں اپنے
کسی دن یہ سہولت مار دے گی
کبھی سوچا نہیں تھا تیرے ہوتے
کوئی تازہ محبت مار دے گی
کسی کو اپنا دشمن ہی بنا لوں
وگرنہ یہ فراغت مار دے گی
محبت کرنے سے پہلے پتہ تھا
قبیلے کی روایت مار دے گی
حسن یہ وقت آنے پر کھلے گا
کسے کس کی ضرورت مار دے گی

حسن عباسی

No comments:

Post a Comment