Saturday, 22 August 2020

تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا

تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا
جب کوئی اور نہ ہو گا تو دکھائی دوں گا
میری دنیا میں فقط ایک "خدا" کافی ہے
دوستو! کتنے خداؤں کو خدائی دوں گا
دل کو میں قیدِ قفس سے تو بچا لے آیا
کب اسے قیدِ نشیمن سے رہائی دوں گا
کوئی انساں نظر آۓ تو بلاؤ اس کو
اسے اس دور میں جینے پہ بدھائی دوں گا
دیکھ لوں اپنے گریباں ہی میں منہ ڈال کے میں
اپنے حالات کی کس کس کی برائی دوں گا
تم اگر چھوڑ گئے مجھ کو تو یوں تڑپوں گا
ساری دنیا کو غم و درد جدائی دوں گا
تیری ہی روح کا نغمہ ہوں اگر مٹ بھی گیا
میں تجھے دوسری دنیا سے سنائی دوں گا

قمر جلال آبادی

No comments:

Post a Comment