Sunday, 23 August 2020

دل ہے تاریک اسے نور کا ہالہ کر دے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

دل ہے تاریک اسے نور کا ہالہ کر دے
اِک نظر میری طرف بھی شہِ والاؐ کر دے
خوف کے غار میں ہوں اور تعاقب میں عدو
کہہ دے مکڑی سے درِ غار پہ جالا کر دے
میں جسے بیچ کے اِک تیشۂ محنت لے لوں
کوئی آنسو💧 مِرا مٹی کا پیالہ کر دے
دنیا داری جو حمائل ہے گلے میں میرے
اپنی رحمت سے اسے عشق کی مالا کر دے
شوق کے ابر جو ٹکرائیں تو پھر رم جھم ہو
میرے ایمان کا قد مثلِ ہمالہ کر دے
ہے مِرا نام حسنؔ اور تجھے پیارا ہے
بس یہی نام تو محشر میں حوالہ کر دے

حسن عباسی

No comments:

Post a Comment