عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دل ہے تاریک اسے نور کا ہالہ کر دے
اِک نظر میری طرف بھی شہِ والاؐ کر دے
خوف کے غار میں ہوں اور تعاقب میں عدو
کہہ دے مکڑی سے درِ غار پہ جالا کر دے
میں جسے بیچ کے اِک تیشۂ محنت لے لوں
دنیا داری جو حمائل ہے گلے میں میرے
اپنی رحمت سے اسے عشق کی مالا کر دے
شوق کے ابر جو ٹکرائیں تو پھر رم جھم ہو
میرے ایمان کا قد مثلِ ہمالہ کر دے
ہے مِرا نام حسنؔ اور تجھے پیارا ہے
بس یہی نام تو محشر میں حوالہ کر دے
حسن عباسی
No comments:
Post a Comment