Friday, 17 September 2021

نقشہ میں کائنات کے خانے ہیں اور بھی

 نقشہ میں کائنات کے خانے ہیں اور بھی 

میں چھوڑ دوں زمیں تو ٹھکانے ہیں اور بھی 

جو سامنے ہے اس پہ ابھی اکتفا نہ کر 

اس خوشۂ حیات میں دانے ہیں اور بھی

میں ہی نہیں ہوں صرف روایت کا پاسباں

اس شہرِ کم نظر میں گھرانے ہیں اور بھی

دو دن کی روشنی کے یہ منظر ہرے بھرے

اندر ہو روشنی تو سہانے ہیں اور بھی

ذوقِ شکار، طائرِ مہ تاب تک نہیں

لوگو مِری نظر میں نشانے ہیں اور بھی

روکو نہیں روانی مِری اس جہان تک

جانے دو مجھ کو آگے زمانے ہیں اور بھی

یہ مشورہ ہوائے وفا نے دیا مجھے

اس راہ پہ چراغ جلانے ہیں اور بھی


تنویر سیٹھی​

No comments:

Post a Comment