نقشہ میں کائنات کے خانے ہیں اور بھی
میں چھوڑ دوں زمیں تو ٹھکانے ہیں اور بھی
جو سامنے ہے اس پہ ابھی اکتفا نہ کر
اس خوشۂ حیات میں دانے ہیں اور بھی
میں ہی نہیں ہوں صرف روایت کا پاسباں
اس شہرِ کم نظر میں گھرانے ہیں اور بھی
دو دن کی روشنی کے یہ منظر ہرے بھرے
اندر ہو روشنی تو سہانے ہیں اور بھی
ذوقِ شکار، طائرِ مہ تاب تک نہیں
لوگو مِری نظر میں نشانے ہیں اور بھی
روکو نہیں روانی مِری اس جہان تک
جانے دو مجھ کو آگے زمانے ہیں اور بھی
یہ مشورہ ہوائے وفا نے دیا مجھے
اس راہ پہ چراغ جلانے ہیں اور بھی
تنویر سیٹھی
No comments:
Post a Comment