یاد ہے، دبدبہ اُداسی ہے
اے مِرے ہمنوا! اداسی ہے
بس یہی مسئلہ اداسی ہے
تُو نہیں جانتا اداسی ہے
باخدا کچھ خبر بھی ہے تجھ کو
ہر بشر ڈھونڈتا اداسی ہے
ایک تُو اور دوسرا بھی تُو
تیسرا رت جگا اداسی ہے
اے مِرے ہم مرض تمہاری قسم
ہر مرض کی شفا اداسی ہے
ابتدا کی الف کا مطلب ہے
عشق کی انتہا اداسی ہے
وہ بدن اس لیے پسند نہیں
اس جگہ کون سا اداسی ہے
عشق ہی وہ ملنگ ہے جو یہاں
مفت میں بیچتا اداسی ہے
معاذ فرہاد
No comments:
Post a Comment