Friday, 17 September 2021

یہ مانا ہم نے چاہت میں غم کھانا ضروری ہے

 یہ مانا ہم نے، چاہت میں غم کھانا ضروری ہے

مگر، پھر بھی یہ لوگوں کو بتلانا ضروری ہے؟

وہ اکثر روٹھ جاتے ہیں مِری بے ذوق باتوں سے

انہیں باتوں ہی باتوں میں بہلانا ضروری ہے

ہوا کے تیز جھونکے نے ذرا سا چُھو لیا سو اب

میرے بالوں کا شانے پر بل کھانا ضروری ہے

بہت میں نے کیا اصرار؛ کچھ دن اور رک جائیں

یہ کہہ کر چل پڑے وہ کہ؛ مِرا جانا ضروری ہے

میں ہر دن یاد ماضی سے تعلق توڑ لیتی ہوں

مگر ہر رات تیری یاد کا آنا ضروری ہے

کلائی تھام کر میری، کہا مجبوریوں نے یوں

"محبت حادثہ تھا پر بچھڑ جانا ضروری ہے"

میں یہ بھی جانتی ہوں کہ کچھ بھی کام نہ دے گا

مگر اب شاعری سے دل کو بہلانا ضروری ہے


زارا قاسمی

No comments:

Post a Comment