اصرار اگرچہ میں نے زیادہ نہیں کیا
اس نے بھی اپنے دل کو کشادہ نہیں کیا
پھر کیوں لگائیں تم سے امیدِ وصال و ہجر
تم نے تو ایسا کوئی بھی وعدہ نہیں کیا
ہم نے کسی کو راہ میں چھوڑا نہیں کبھی
ہم نے کوئی سفر کبھی آدھا نہیں کیا
اس نے بھی ساتھ چلنے کی حامی نہیں بھری
ہم نے بھی زندگی کا ارادہ نہیں کیا
اپنی طرف سے اس نے بھی مشکل کیا سوال
اور میں نے بھی جواب کو سادہ نہیں کیا
زاہد بشیر
No comments:
Post a Comment