Friday, 17 September 2021

رہبر کی آدمی کو ضرورت نہیں رہی

 جب قابلِ یقینِ سیاست نہیں رہی

رہبر کی آدمی کو ضرورت نہیں رہی

رکھتے کہاں خیال ہیں جی اب کسی کا ہم

اتنی بھی پاس اپنے تو فرصت نہیں رہی

آتے نہیں ہیں شعر جو اڑتے ہوئے میاں

شاید تِرے خیال میں طاقت نہیں رہی

کانٹوں سے زخم کھائے ہیں اتنے کہ اب ہمیں

پھولوں کو چومنے کی بھی حسرت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ سارا ہی نقشہ بدل گیا

پھر یوں ہوا کہ کوئی حکومت نہیں رہی

اتنا سا فرق ہے کہ احساس مٹ گیا

ایسا نہیں کہ آج مصیبت نہیں رہی

ہر شخص اپنے آپ میں جب قید ہو گیا

اب کالے پانیوں کی ضرورت نہیں رہی


شاہد رحمان

No comments:

Post a Comment