رات ڈھلنے کے بعد کیا ہو گا
دن نکلنے کے بعد کیا ہو گا
سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوں
بچ نکلنے کے بعد کیا ہو گا
خواب ٹوٹا تو گر پڑے تارے
آنکھ مَلنے کے بعد کیا ہو گا
رقص میں ہو گی ایک پرچھائیں
دِیپ جلنے کے بعد کیا ہو گا
دشت چھوڑا تو کیا مِلا ثروت
گھر بدلنے کے بعد کیا ہو گا
ثروت حسین
No comments:
Post a Comment