Wednesday, 9 March 2022

میں نے یہ کب کہا ہے کے دھوکے کیے گئے

 میں نے یہ کب کہا ہے کے دھوکے کیے گئے

وعدے کیے گئے تھے جو، پورے کیے گئے؟

پہلے تو بیچ صحن میں دیوار تھی فقط

پھر اس مکان کے کئی حصے کیے گئے

پہلے ہماری سرحدیں تشکیل دی گئیں

پھر اس کے بعد ملک کے سودے کیے گئے

پھر یوں ہوا کہ وقت نے یہ فیصلہ دیا

جو لوگ اگلی صف میں تھے، پیچھے کیے گئے

کاپی، قلم، کتاب پر شب خون مار کر

مفلوج میری قوم کے بچے کیے گئے

میں نے یہ جب کہا مجھے انصاف چاہیے

میری زبان کے کئی ٹکڑے کیے گئے

میں جو ہر ایک راہ کو رستہ بنا گیا

مسدود مجھ پہ میرے ہی رستے کیے گئے


سحرتاب رومانی

No comments:

Post a Comment