میں نے یہ کب کہا ہے کے دھوکے کیے گئے
وعدے کیے گئے تھے جو، پورے کیے گئے؟
پہلے تو بیچ صحن میں دیوار تھی فقط
پھر اس مکان کے کئی حصے کیے گئے
پہلے ہماری سرحدیں تشکیل دی گئیں
پھر اس کے بعد ملک کے سودے کیے گئے
پھر یوں ہوا کہ وقت نے یہ فیصلہ دیا
جو لوگ اگلی صف میں تھے، پیچھے کیے گئے
کاپی، قلم، کتاب پر شب خون مار کر
مفلوج میری قوم کے بچے کیے گئے
میں نے یہ جب کہا مجھے انصاف چاہیے
میری زبان کے کئی ٹکڑے کیے گئے
میں جو ہر ایک راہ کو رستہ بنا گیا
مسدود مجھ پہ میرے ہی رستے کیے گئے
سحرتاب رومانی
No comments:
Post a Comment