محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے
خاموشی بھی ہے آواز بھی ہے
نشیمن کے لیے بے تاب طائر
وہاں پابندئ پرواز بھی ہے
خاموشی پہ بھروسہ کرنے والو
خاموشی غم کا غماز بھی ہے
میری خاموشئ دل پر نہ جاؤ
کہ اس میں روح کی آواز بھی ہے
دلِ بے گانہ خُو! دنیا میں تیرا
کوئی ہمدم، کوئی ہمراز بھی ہے
ہے معراجِ خرد بھی عرشِ عظیم
جنوں کا فرشِ پا انداز بھی ہے
عذرا عادل رشید
No comments:
Post a Comment