میں ہر سانچے میں ڈھلنا جانتی ہوں
میں مثلِ شمع جلنا جانتی ہوں
میں عورت ہوں مِرا ہے ظرف اعلیٰ
کٹھن رستوں پہ چلنا جانتی ہوں
حوادث کی کروں کیا بات یارو
ہوا کا رخ بدلنا جانتی ہوں
مِرے اندر بھی اتنا حوصلہ ہے
میں مشکل سے نکلنا جانتی ہوں
مٹائے گا کوئی کیا مجھ کو گوہر
میں گر گر کر سنبھلنا جانتی ہوں
گوہر سیما
No comments:
Post a Comment