محبت سے سجے دیوار و در کی بات کرتے ہیں
سفر میں بھی مسافر اپنے گھر کی بات کرتے ہیں
وہ جس کا سایہ تیری روح کی گہرائیوں تک ہے
محبت نام کے ہم اس شجر کی بات کرتے ہیں
سنا ہے عارضِ تاباں تمہارا دیکھنے والے
اب اٹھتے بیٹھتے شمس و قمر کی بات کرتے ہیں
ارے وہ اپنی انگلی بھی کٹا دیں تو غنیمت ہے
وطن کے نام پر جو لوگ سر کی بات کرتے ہیں
اسد میں دور رہتا ہوں ہمیشہ ایسے لوگوں سے
اِدھر آ کر جو کانوں میں اُدھر کی بات کرتے ہیں
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment