اپنے چہرے پہ گھنی زلف کا سایہ مت کر
چاند کو دیکھتے ہی یاد تو آیا مت کر
جانے والے کو صدا دے کے بلایا مت کر
بھولنے والوں کو خوابوں میں بھی لایا مت کر
ریگزاروں پہ لکھا پیاس، لہو سے اپنے
ہم کو تاریخ کے اسباق، پڑھایا مت کر
یاد آتی ہے نصیحت تِری، تنہا ہو کر
سب کو احوال محبت کے سنایا مت کر
بھولنے والے سے اتنا بھی نہ ہم کہہ پائے
سچ نہ ہو پائیں جو وہ خواب دکھایا مت کر
مجھ سے ہرجائی کی ایسی بھی پذیرائی نہ ہو
یوں سرِ شام چراغوں کو جلایا مت کر
فرق جب خود ہی من و تو کا مٹایا تُو نے
شکریہ کہہ کے اب اس طرح پرایا مت کر
بھول جائے نہ کہیں اپنی ہی پہچان مجھے
اتنی شدت سے خیالات میں آیا مت کر
خواجہ ثقلین
No comments:
Post a Comment