Sunday, 19 December 2021

اپنے چہرے پہ گھنی زلف کا سایہ مت کر

 اپنے چہرے پہ گھنی زلف کا سایہ مت کر

چاند کو دیکھتے ہی یاد تو آیا مت کر

جانے والے کو صدا دے کے بلایا مت کر

بھولنے والوں کو خوابوں میں بھی لایا مت کر

ریگزاروں پہ لکھا پیاس، لہو سے اپنے

ہم کو تاریخ کے اسباق، پڑھایا مت کر

یاد آتی ہے نصیحت تِری، تنہا ہو کر

سب کو احوال محبت کے سنایا مت کر

بھولنے والے سے اتنا بھی نہ ہم کہہ پائے

سچ نہ ہو پائیں جو وہ خواب دکھایا مت کر

مجھ سے ہرجائی کی ایسی بھی پذیرائی نہ ہو

یوں سرِ شام چراغوں کو جلایا مت کر

فرق جب خود ہی من و تو کا مٹایا تُو نے

شکریہ کہہ کے اب اس طرح پرایا مت کر

بھول جائے نہ کہیں اپنی ہی پہچان مجھے

اتنی شدت سے خیالات میں آیا مت کر


خواجہ ثقلین

No comments:

Post a Comment