Sunday, 19 December 2021

ابھرتی ڈوبتی سانسیں شمار کرتے ہوئے

 ابھرتی ڈوبتی سانسیں شمار کرتے ہوئے

میں جی رہا ہوں مگر روز روز مرتے ہوئے

یہ مرتبے مِرے ٹوٹے ہوئے چراغوں کے

سلام کرتے ہیں طوفان بھی گزرتے ہوئے

نواز دیتا ہے دل کو سکوں کے لمحوں سے

تِرا خمار، مِری روح میں اترتے ہوئے

میں اپنے گاؤں کی چوپال یاد کرتا ہوں

تمہارے شہر کی گلیوں میں شام کرتے ہوئے

وہ آ رہے ہیں سنورنے کا عزم لے کے مگر

بکھر نہ جائیں کہیں احتیاط کرتے ہوئے

کسی حسین کا چہرہ نہ بن سکا اب تک

اک عمر ہو گئی لفظوں کے رنگ بھرتے ہوئے

پھر اس کی یادوں کا گزرے گا کارواں زاہد

سکونِ قلب و نظر کو تباہ کرتے ہوئے


زاہد وارثی

No comments:

Post a Comment