ابھرتی ڈوبتی سانسیں شمار کرتے ہوئے
میں جی رہا ہوں مگر روز روز مرتے ہوئے
یہ مرتبے مِرے ٹوٹے ہوئے چراغوں کے
سلام کرتے ہیں طوفان بھی گزرتے ہوئے
نواز دیتا ہے دل کو سکوں کے لمحوں سے
تِرا خمار، مِری روح میں اترتے ہوئے
میں اپنے گاؤں کی چوپال یاد کرتا ہوں
تمہارے شہر کی گلیوں میں شام کرتے ہوئے
وہ آ رہے ہیں سنورنے کا عزم لے کے مگر
بکھر نہ جائیں کہیں احتیاط کرتے ہوئے
کسی حسین کا چہرہ نہ بن سکا اب تک
اک عمر ہو گئی لفظوں کے رنگ بھرتے ہوئے
پھر اس کی یادوں کا گزرے گا کارواں زاہد
سکونِ قلب و نظر کو تباہ کرتے ہوئے
زاہد وارثی
No comments:
Post a Comment