گلدستۂ ایمان سے باہر نہیں آئے
لپٹے رہے زِندان سے، باہر نہیں آئے
ہم دل کے غنی شہرِ محبت کے گداگر
اک دوسری پہچان سے باہر نہیں آئے
کچھ لوگ مِرا حال بتاتے ہوئے بولے
صاحب کبھی نقصان سے باہر نہیں آئے
اک بار ہمیں اس سے ملی جھوٹی تسلی
پھر خیمۂ امکان سے باہر نہیں آئے
ہم آخری وقتوں میں کہیں تجھ سے ملے تھے
پھر کوچۂ گنجان سے باہر نہیں آئے
عاصم سلیم
No comments:
Post a Comment