تنہا کبھی کبھار تو رونا بھی چاہیۓ
ایسا کبھی کبھار تو ہونا بھی چاہیۓ
غلطی پہ اپنی ہم نے تو سر کو جُھکا لیا
اتنا تو ہم کو خوفِ خدا ہونا بھی چاہیۓ
خود اپنے آپ سے کسی پہچان کے لیے
خود کو کبھی کبھار تو کھونا بھی چاہیۓ
دنیا میں زندہ رہنا کٹھن ہے، سو اس لیے
تم جیسا ہمسفر کوئی ہونا بھی چاہیۓ
ہاتھوں میں آسمان لیے سوچتا ہوں میں
دریا میں آسمان کو دھونا بھی چاہیۓ
دن رات ہم تو جاگتے رہتے ہیں سرفراز
لیکن، کبھی کبھار تو سونا بھی چاہیۓ
سرفراز تبسم
No comments:
Post a Comment