Tuesday, 21 December 2021

ہزار ہمسفروں میں سفر اکیلا ہے

 ہزار ہمسفروں میں سفر اکیلا ہے

یہ انتشار کہ اک اک بشر اکیلا ہے

گلو بُریدہ سبھی ہیں مگر زہے توقیر

بلند نوکِ سناں پر یہ سر اکیلا ہے

نہ پتیاں ہیں نہ پھل پھول پھر بھی چھاؤں تو دیکھ

سنا تھا میں نے کہ غم کا شجر اکیلا ہے

یہ بھیڑ خاک دکھائے گی شانِ بے جگری

یہ اس کا حق ہے جو سینہ سِپر اکیلا ہے

لپٹ کے روح سے کہتا رہا بدن کل رات

نہ جاؤ چھوڑ کے مجھ کو کہ گھر اکیلا ہے

متاعِ قلب و جگر کس کو سونپ دوں ساغر

ہجومِ بے ہنری میں ہنر اکیلا ہے


ساغر مہدی

No comments:

Post a Comment