Tuesday, 21 December 2021

دل بھی سلگاؤ کہ پھر عشق نکل کر آئے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دل بھی سلگاؤ کہ پھر عشق نکل کر آئے

روشنی اصل میں وہ ہے کہ جو جل کر آئے

کب سے منسوخ زمانہ تھا زمیں پر رائج

پھر حضورﷺ آپؐ گئے وقت بدل کر آئے

کیا سفر تھا وہ مدینے سے محمدﷺ کی طرف

لوگ بے ہوش تھے اور ہوش میں چل کر آئے

دوستا! باغ کی بدلی ہوئی حالت پہ نہ جا

ان کو بھی دیکھ جو مکے سے نکل کر آئے

چل کے سرکارﷺ گئے غارِ حرا تک جبکہ

غار کو چاہیۓ تھا پاس وہ چل کر آئے


آل عمر

آلِ عمر

No comments:

Post a Comment