عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کہتی ہے سانسوں کی سرگم صلی اللہ علیہ و سلم
آپؐ کے قدموں میں نکلے دم صلی اللہ علیہ و سلم
آپؐ کے ہر عاشق کی نظر میں شہر مدینہ ایسا ہے
جیسے گلوں پہ صبح کی، شبنم صلی اللہ علیہ و سلم
زائرِ طیبہ پیتے بھی ہیں ساتھ بھی لے کر جاتے ہیں
طیب و طاہر آبِ زم زم، صلی اللہ علیہ و سلم
آپِ کے در سے لوٹنے والے اشک بہا کر کہتے ہیں
کیسے کٹے گا ہجر کا موسم صلی اللہ علیہ و سلم
وقتِ نزع جب آئے فرشتے روح مِری لے جانے کو
وردِ زباں ہو میرے اس دم صلی اللہ علیہ و سلم
روزِ جزا سب اول و آخر آ کے کہیں گے ان سے اسد
نظرِ کرم ہو رحمتِ عالمﷺ، صلی اللہ علیہ وسلم
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment