تم کو تنہا کر سکتا ہوں
اب میں ایسا کر سکتا ہوں
اچھا، پیار نہیں کرتے نا
کیا میں جھگڑا کر سکتا ہوں
تم کیوں ایسا سوچ رہی ہو
کیا میں ایسا کر سکتا ہوں
آج مقدر پوچھ رہا تھا؛
آپ سے شکوہ کر سکتا ہوں
تم چاہو تو عشق دوبارہ
پہلے جیسا کر سکتا ہوں
آج میں جو کچھ بول رہا ہوں
کل میں ایسا کر سکتا ہوں
ایک تماشہ بھول گیا ہے
ایک تماشہ کر سکتا ہوں
عاصم سلیم
No comments:
Post a Comment