جو بھی خانہ خراب دیکھے گا
تم سے ملنے کے خواب دیکھے گا
جو میرا انتخاب دیکھے گا
سامنے ماہتاب دیکھے گا
تم جو کہہ دو تو ہم چلے آئیں
کون موسم خراب دیکھے گا
میں تو دیکھوں گا رو برو تم کو
چھپ کے عزت مآب دیکھے گا
جو تِری زلف پریشاں دیکھے
گویا بِپھرا چناب دیکھے گا
چاند آنکھوں سے دیکھنے والا
رُخ پہ کیسے نقاب دیکھے گا
جس نے پی لی ہو مست آنکھوں سے
خاک مُڑ کر شراب دیکھے گا
جس کی قسمت میں تم ہو جانانہ
اپنے اندر نواب دیکھے گا
جس کو تم ہمسفر بنا ڈالو
چاند کو ہمرکاب دیکھے گا
گو ریاضی میں خوب ماہِر ہے
کون اشرف حساب دیکھے گا
اشرف علی
No comments:
Post a Comment