Wednesday, 22 December 2021

جو بھی خانہ خراب دیکھے گا

 جو بھی خانہ خراب دیکھے گا

تم سے ملنے کے خواب دیکھے گا

جو میرا انتخاب دیکھے گا

سامنے ماہتاب دیکھے گا

تم جو کہہ دو تو ہم چلے آئیں

کون موسم خراب دیکھے گا

میں تو دیکھوں گا رو برو تم کو

چھپ کے عزت مآب دیکھے گا

جو تِری زلف پریشاں دیکھے

گویا بِپھرا چناب دیکھے گا

چاند آنکھوں سے دیکھنے والا

رُخ پہ کیسے نقاب دیکھے گا

جس نے پی لی ہو مست آنکھوں سے

خاک مُڑ کر شراب دیکھے گا

جس کی قسمت میں تم ہو جانانہ

اپنے اندر نواب دیکھے گا

جس کو تم ہمسفر بنا ڈالو

چاند کو ہمرکاب دیکھے گا

گو ریاضی میں خوب ماہِر ہے

کون اشرف حساب دیکھے گا


اشرف علی

No comments:

Post a Comment