دشتِ وحشت میں نہ دیوار اٹھائیں، جائیں
ہم اسیروں کے نہ آزار بڑھائیں، جائیں
زندگی قید ہے وقتوں کی، کئی گھڑیوں میں
آپ جب چاہیں سمے روک کے آئیں، جائیں
ہم کو زنجیر میں جکڑا ہے اداسی نے میاں
ٹوٹنے والے ہیں، ہم کو نہ ستائیں، جائیں
پہلے ہی میری یتیمی کی سسک باقی ہے
آپ رو کر نہ مجھے اور رلائیں، جائیں
سدرہ غلام رسول
No comments:
Post a Comment