چاہے پتھر تھا کہ فولاد نما، ٹوٹ گیا
دل کے بتخانے کا ہر ایک خدا ٹوٹ گیا
مشورہ ہے کہ؛ مِری راہ کی دیوار نہ بن
جو مِری راہ کی دیوار بنا، ٹوٹ گیا
کچے دھاگے کے تعلق کا یہی رونا ہے
کھینچا تانی میں ذرا جھٹکا لگا، ٹوٹ گیا
آخرِ کار لڑائی کا یہ انجام ہوا
سامری مارا گیا، میرا عصا ٹوٹ گیا
دل پہ اب مجھ سے زیادہ نہیں رویا جاتا
اک کھلونا تھا جو بس ٹوٹ گیا، ٹوٹ گیا
مصطفیٰ جاذب
No comments:
Post a Comment