جو ہم سخن ملا، قرضِ دہن اتاروں گا
زباں کے سر سے میں بارِ سخن اتاروں گا
وہ تیر ہوں کہ جو رستے میں رک نہیں سکتا
پہنچ کر اپنے ہدف ہر تھکن اتاروں گا
ستارے توڑ کے لانا ہے کھیل بچوں کا
میں اس کے صحن میں سارا گگن اتاروں گا
ستارہ، چاند یا جگنو نہیں، میں سورج ہوں
شبِ سیاہ! تِرا پیرہن اتاروں گا🌑
صدیق سورج
No comments:
Post a Comment