Tuesday, 17 August 2021

پلکوں پر نم باقی ہے

 پلکوں پر نم باقی ہے

اب تک وہ غم باقی ہے

زخم کبھی بھر جائیں گے

وقت کا مرہم باقی ہے

کیسا ستم ہے وصل کے بیچ

ہجر کا عالم باقی ہے

پچھلی محبت کا تجھ میں

رنگ اک مدھم باقی ہے

چلتے رہنا ہے مجھ کو

جب تک یہ دم باقی ہے

ایک تعلق ہے یہ بھی

نفرت باہم باقی ہے


فراست رضوی

No comments:

Post a Comment