ایسا نہیں کہ خود کو میسر نہیں رہا
تجھ سے بچھڑ کے اپنے برابر نہیں رہا
دیکھی نہ جائے اب تو جنوں کی یہ بے بسی
سر مل گیا تو ہاتھ میں پتھر نہیں رہا
اتنا تو ہو گیا تِری نظروں میں آ گئے
اپنی بلا سے گھر نہیں یا سر نہیں رہا
دیکھا نظر اٹھا کے تو منظر بدل گیا
میں جو سمجھ رہا تھا وہ یکسر نہیں رہا
اک تجھ کو ہی گلہ نہیں افضل سے ان دنوں
میرا بھی اس سے واسطہ بہتر نہیں رہا
افضل سراج
No comments:
Post a Comment