Tuesday, 17 August 2021

ایسا نہیں کہ خود کو میسر نہیں رہا

 ایسا نہیں کہ خود کو میسر نہیں رہا

تجھ سے بچھڑ کے اپنے برابر نہیں رہا

دیکھی نہ جائے اب تو جنوں کی یہ بے بسی

سر مل گیا تو ہاتھ میں پتھر نہیں رہا

اتنا تو ہو گیا تِری نظروں میں آ گئے

اپنی بلا سے گھر نہیں یا سر نہیں رہا

دیکھا نظر اٹھا کے تو منظر بدل گیا

میں جو سمجھ رہا تھا وہ یکسر نہیں رہا

اک تجھ کو ہی گلہ نہیں افضل سے ان دنوں

میرا بھی اس سے واسطہ بہتر نہیں رہا


افضل سراج

No comments:

Post a Comment