ڈھونڈو نہ فقط عیب کے صحرا مِرے اندر
بہتے ہیں محاسن کے بھی دریا مرے اندر
مسجد مِرے اندر ہے کلیسا مرے اندر
میں ایک ہوں موجود ہے کیا کیا مرے اندر
دنیا کی ہے چاہت تو ہے اللہ کا ڈر بھی
دنیا مرے باہر ہے تو عقبٰی مرے اندر
مدت سے میں تعلیم کے پیشے سے جڑی ہوں
سو جاری ہے اک علم کا دریا مرے اندر
خوشبو ہے مِرا وصف تو نشہ بھی ہے مجھ میں
عنبر ہے مری ذات تو صہبا مرے اندر
عنبر عابد
No comments:
Post a Comment